وہی درد ہے وہی بے بسی تِرے گاؤں میں مِرے شہر میں
سبھی غیر ہیں سبھی اجنبی، ترے گاؤں میں مرے شہر میں
ہیں سبھی کی اپنی ضرورتیں، کوئی کیسے بانٹے محبتیں؟
نہ خلوص ہے نہ ہے دوستی، ترے گاؤں میں مرے شہر میں
نہ وہ حسن ہے نہ حجاب ہے، نہ وہ عشق میں تب و تاب ہے
میں علاجِ غم بھی نہ کر سکا، ترا جام تو بھی نہ بھر سکا
ہے ہر ایک موڑ پہ تشنگی، ترے گاؤں میں مرے شہر میں
یہ حسد جہاں کی نظر میں ہے، غم دانا ان کے جگر میں ہے
ہے سبھی کو پیار سے دشمنی، ترے گاؤں میں مرے شہر میں
عباس دانا
No comments:
Post a Comment