اس کی وفا، نہ میری وفا کا "سوال" تھا
دونوں ہی چپ تھے صرف انا کا سوال تھا
اس کشمکش میں ختم ہوا "رات" کا سفر
ضد تھی مِری تو اس کی حیا کا سوال تھا
سب منتظر تھے آسماں دیتا ہے کیا جواب
مجبور ہم تھے اور وہ "مختار" تھا، مگر
دونوں کے بیچ دست دعا کا سوال تھا
جانا تھا میکدے سے ہمیں کوئے یار تک
لیکن ہماری "لغزشِ پا" کا سوال تھا
تقسیم کرنے نکلا تھا وہ "روشنی"، مگر
جلتے ہوئے دِیے کو "ہوا" کا سوال تھا
عباس دانا
No comments:
Post a Comment