Sunday, 12 September 2021

وہ جس کے واسطے ہم در بدر ہیں

 وہ جس کے واسطے ہم در بدر ہیں

ہمارے حال سے وہ بے خبر ہیں

وہی کافی ہیں نصرت کو ہماری

اگرچہ دوست میرے مُٹھی بھر ہیں

بنا لوں گا میں تجھ سے اور لاکھوں

مِرے پہلو میں دیکھو کوزہ گر ہیں

تمہاری ڈھیل دینے کی وجہ سے

کمینے بھی یہاں پر معتبر ہیں

رفُو ہوتا نہیں اک دل بھی ان سے

بہت بےچارے میرے چارہ گر ہیں

تمہارے شہر کے یہ لوگ جوگی

محبت بانٹنے ہیں فتنہ گر ہیں


حفیظ جوگی

No comments:

Post a Comment