وہ جس کے واسطے ہم در بدر ہیں
ہمارے حال سے وہ بے خبر ہیں
وہی کافی ہیں نصرت کو ہماری
اگرچہ دوست میرے مُٹھی بھر ہیں
بنا لوں گا میں تجھ سے اور لاکھوں
مِرے پہلو میں دیکھو کوزہ گر ہیں
تمہاری ڈھیل دینے کی وجہ سے
کمینے بھی یہاں پر معتبر ہیں
رفُو ہوتا نہیں اک دل بھی ان سے
بہت بےچارے میرے چارہ گر ہیں
تمہارے شہر کے یہ لوگ جوگی
محبت بانٹنے ہیں فتنہ گر ہیں
حفیظ جوگی
No comments:
Post a Comment