اِن باکس
میرے اِن باکس میں حرف لکھتا رہے
اور بھیجے نہیں
چند نُقطے بنیں
اور بنتے رہیں
لکھ رہا ہے نجانے وہ کیا؟
یوں لگے جیسے اس نے وہ سب کچھ لکھا
میں نے سوچا تھا جو
خوش گمانی کی سیڑھی پہ رکھ کر قدم
اک فرازِ تخیّل تلک جاؤں میں
خامشی، اجنبیت کو دیکھوں وہاں
اور گھبراؤں میں
یا خدا
کس لیے اس قدر مخمصہ
کیوں وہ کہتا نہیں
اور کہتا نہیں ہے تو لکھتا ہے کیوں ایسے الفاظ جو بھیجنے ہی نہیں
میرے اِن باکس میں
چند نُقطے مِرے سامنے ناچتے ناچتے منہ چڑاتے رہیں
وسوسے خون میرا جلاتے رہیں
وہ فلاں بات تو اب نہیں لکھ رہا؟
کیا فلاں بات لکھ کر مٹائے گا اب؟
کیا فلاں جملہ وہ بھیج پائے گا اب؟
میرے اِن باکس میں
اب وہ کچھ تو لکھے
کچھ تو بھیجے مجھے
میں وہ سب کچھ پڑھوں جو وہ لکھتا نہیں
شمامہ افق
No comments:
Post a Comment