ہمیشہ تو زمانے میں کوئی رشتہ نہیں رہتا
کسی سے کیا گِلہ، خود آدمی اپنا نہیں رہتا
کچھ ایسے حادثے بھی زندگی میں ہوتے دیکھے ہیں
کہ انساں بچ تو جاتا ہے، مگر زندہ نہیں رہتا
پھر اپنے آپ سے اک گفتگو سی چل نکلتی ہے
کوئی انساں زیادہ دیر تک تنہا نہیں رہتا
میں اپنے دل کے دروازے پہ اکثر اب بھی جاتا ہوں
مگر اس گھر میں اب کوئی مِرے جیسا نہیں رہتا
افتخار بخاری
No comments:
Post a Comment