Thursday, 18 November 2021

وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے

 وہ میرے خط نہیں پڑھتی مگر پڑھ شعر لیتی ہے

وہ مجھ سے صاف دل عاشق سے کیونکر بیر لیتی  ہے

جان بستی ہے میری تم میں جو یہ کہتی تھی

اب کہیں دیکھ بھی لے تو نگاہیں پھیر لیتی ہے

میں اپنے دیس کے رانجھوں کی کیا تعریف کروں

انہیں ہر دوسرے ماہ اک محبت گھیر لیتی ہے

کون کہتا ہے؛ محبت نہیں ہو سکتی دوبارہ

یہ تو سو بار بھی ہو سکتی ہے پر دیر لیتی ہے

کہ جس کو ہوتی ہے سچی لگن عاشق سے ملنے کی

بِنا کچے گھڑے کے بھی وہ آصف تیر لیتی ہے


آصف میؤ

No comments:

Post a Comment