Wednesday, 14 October 2020

سنا ہے وہ اداس ہے

 سنا ہے وہ اداس ہے

اسے کہو

کبھی بھی تیرگی میں ڈوبنے لگے

کبھی بھی ٹوٹ کر گرے

کبھی بھی ہار کر گرے

تو میری نظم تھام کر گلے لگا لیا کرے

کہ اس میں زندگی کے عام دکھ تو کیا

یہ رائیگانئ حیات بھی کبھی کسی کو رائیگاں نہیں ملی

اسے کہو کہ رو چکے تو دیکھ لے

میری نظر سے کائنات کے فسوں کو کھوج لے تو سوچ لے

کہ منظروں کو کیا ہوا

کسی نے اس کے نام پر زماں مکاں پلٹ دئیے

فلاسفہ کے ذہن میں بنے قدیم زاویوں کے نقش تک الٹ دئیے

کسی نے ان فضاؤں میں خلا میں کہکشاؤں میں

مہیب راستوں کے سورجوں پہ اس کا نام ثبت کر دیا

کسی نے اس کے راستوں میں سرخ پھول بھر دئیے

کسی نے اس کے نام کے دِیے جلا کے طاقچوں میں رکھ دئیے

ابھی بھی وہ اداس ہے

اسے کہو کہ اب بھی تیرگی میں ڈوبنے لگے

ابھی بھی ٹوٹ کر گرے

ابھی بھی ہار کر گرے

تو میری نظم تھام کر گلے لگا لیا کرے


صہیب مغیرہ صدیقی

No comments:

Post a Comment