خاک کا یہ ڈھیر بھی آخر پڑا رہ جائے گا
ڈوب جائے گا سفینہ، ناخدا رہ جائے گا
ہم رہیں گے یا نہیں اشعار تو رہ جائیں گے
لاش اٹھ جائے گی لیکن حادثہ رہ جائے گا
ایک فرضی سے تعلق میں کہاں رعنائیاں
مل نہ پائیں گے کبھی ہم، رابطہ رہ جائے گا
ہم اگر مرتے رہے یونہی خدا کے نام پر
دیکھنا اک دن زمیں پر بس خدا رہ جائے گا
ہم کہاں تک روک لیں گے خون کی ترسیل کو
تجھ کو جاتا دیکھ کوئی دیکھتا رہ جائے گا
علی ادراک
No comments:
Post a Comment