کس لیے جشنِ انا محفلِ ادراک میں ہے
میری تاریخ مِرے دامنِ صد چاک میں ہے
پھر اٹھا جوشِ جنوں جذبۂ منصور لیے
پھر انا الحق کی صدا کوچۂ سفاک میں ہے
موت انجام ہے، ماحول ہے غفلت کا یہاں
وقت ہر لمحہ شکاری کی طرح تاک میں ہے
فتحِ تقدیر کا اعجاز سمجھنے والے
فتحِ پوشیدہ تِری جرأتِ بے باک میں ہے
رہبر جونپوری
No comments:
Post a Comment