Sunday, 8 August 2021

اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے

 اپنی آشفتہ مزاجی کے ثمر بول پڑے

میں جو خاموش ہوا زخمِ جگر بول پڑے

رات یادوں کے پرندوں نے بہت شور کیا

جیسے خوابیدہ جزیروں میں سحر بول پڑے

دل نے خاموش محبت کی طہارت سن لی

دمِ رخصت جو تِرے دیدۂ تر بول پڑے

ان سے دن رات بدلنے کا سبب جاننا تھا

شوقِ تقلید میں گم شمس و قمر بول پڑے

پہلے مسمار ہوئے خواب گھروندے اختر

پھر ہواؤں سے گلے مل کے شجر بول پڑے


شیراز اختر

No comments:

Post a Comment