Sunday, 8 August 2021

ہم سے وہ بے رخی سے ملتا ہے

 ہم سے وہ بے رخی سے ملتا ہے

جی کو پیغام جی سے ملتا ہے

ہم کو باور نہ تھا عداوت کا

سلسلہ عاشقی سے ملتا ہے

رشتۂ ارتقائے انسانی

ذہن کی تشنگی سے ملتا ہے

دوستی اور دشمنی کا مزا

دوست کی دشمنی سے ملتا ہے

ذوق بڑھتا ہے آشنائی کا

جب وہ بیگانگی سے ملتا ہے

رخ کو تزئین کا نیا پہلو

آپ کی بے رخی سے ملتا ہے

ہے وہ ملتا ہی کس لیے حامد

ہم سے جو بے دلی سے ملتا ہے


سید حامد

No comments:

Post a Comment