Saturday, 15 January 2022

غلط کہ میرے سر دار حوصلے ٹوٹے

 غلط کہ میرے سر دار حوصلے ٹوٹے

صلیب جسم سے سانسوں کے رابطے ٹوٹے

یہ کیسے رخ پہ بنائے مکان لوگوں نے

ہوا چلی ہے تو گھر گھر کے آئینے ٹوٹے

نہ جانے کس کی نظر روشنی کی دشمن تھی

چراغ جس میں جلے تھے وہ طاقچے ٹوٹے

قبیلے اپنی ہی بستی کے جنگجو نکلے

خلوص و صدق و محبت کے ضابطے ٹوٹے

زمین ڈوب گئی نفرتوں کی بارش میں

وہ منزلیں ہیں کہ ملنے کے راستے ٹوٹے

زمانہ پڑھتا ہے چہرے کا اب لکھا تسنیم

ہماری ذات پہ یہ کیسے حادثے ٹوٹے


تسنیم حسن

No comments:

Post a Comment