Saturday, 15 January 2022

سبھی بچھڑ گئے مجھ سے گزرتے پل کی طرح

 سبھی بچھڑ گئے مجھ سے گزرتے پل کی طرح

میں گر چکا ہوں کسی خواب کے محل کی طرح

نواحِ جسم میں روتا کراہتا دن رات

مجھے ڈراتا ہے کوئی مِری اجل کی طرح

یہ شہر ہے یہاں اپنی ہی جستجو میں لوگ

ملیں گے چلتے ہوئے چیونٹیوں کے دل کی طرح

میں اس سے ملتا رہا آج کی توقع پر

وہ مجھ سے دور رہا آنے والے کل کی طرح

نگر میں ذہن کے پھر شام سے ہے سناٹا

اداس اداس ہے دل میر کی غزل کی طرح

نڈھال دیکھ کے بستر میں نیند کی پریاں

پھر آج مجھ سے خفا ہو گئی ہیں کل کی طرح 


آفتاب شمسی

No comments:

Post a Comment