میں بھی یہ جانتا ہوں نہ اچھا کہیں گے لوگ
میں سچ کہوں گا اور مجھے جھوٹا کہیں گے لوگ
اک دوسرے کا ضبط ہمیں توڑنا نہیں
اک ساتھ رو پڑے تو ہمیں کیا کہیں گے لوگ
تیرے قریب آوں گا اتنا قریب میں
مجھ کو تِرے وجود کا سایا کہیں گے لوگ
سب اپنے اپنے قد کے مطابق کریں گے بات
مجھ کو برا کہیں گے تو کتنا کہیں گے لوگ
خود کربلا بنائیں گے اپنے ہی آس پاس
یعنی تمام شہر کو پیاسا کہیں گے لوگ
فراز احمد علوی
No comments:
Post a Comment