Saturday, 15 January 2022

میں بھی یہ جانتا ہوں نہ اچھا کہیں گے لوگ

 میں بھی یہ جانتا ہوں نہ اچھا کہیں گے لوگ

میں سچ کہوں گا اور مجھے جھوٹا کہیں گے لوگ

اک دوسرے کا ضبط ہمیں توڑنا نہیں

اک ساتھ رو پڑے تو ہمیں کیا کہیں گے لوگ

تیرے قریب آوں گا اتنا قریب میں

مجھ کو تِرے وجود کا سایا کہیں گے لوگ

سب اپنے اپنے قد کے مطابق کریں گے بات

مجھ کو برا کہیں گے تو کتنا کہیں گے لوگ

خود کربلا بنائیں گے اپنے ہی آس پاس

یعنی تمام شہر کو پیاسا کہیں گے لوگ


فراز احمد علوی

No comments:

Post a Comment