گمشدہ آواز کا ماتم
الماری میں قید آواز
چوراہے تک پہنچنا چاہتی ہے
اور چوراہے سے اٹھنے والا گریہ
واپس پہاڑی بستیوں میں
دل اس درد کی موج تک
جو اٹھی اس کے باہر موجود سمندر سے
گزر بھی گئی اسے بھگونے سے انکار کرتی ہوئی
یوں تو کہانی میں
ایک بیلوں کی جوڑی اور ہل بھی تھے
چوراہے کا ذکر پھر بھی اضافی نہیں
کوہستانی بستیوں میں قبریں پتھر سے بھری جاتی ہیں
آدمی، بیلوں کی جوڑی اور ہل کے تکونی ربط میں
کون کس جگہ زمین میں کتنا پیوست ہے
یہ فیصلہ محض دیکھنے والے پر نہیں چھوڑا جا سکتا
بارشیں کم ہوتی ہیں اور گریہ زیادہ
میری مٹی کا نم آنکھوں سے آتا ہے
یہاں کی فصل اٹھا لے جانے والا عیار
خوش ہوتا ہے کمسن آنکھوں اور ادھڑے جوان جسموں پر
بونے والے کھونے والوں کی فہرست میں
تلاش کرتے ہیں اپنے وجود کا حصہ
نہ کھیت رہے اور نہ خون کی سرخ بوندیں
ابھی بہت سے موسم مجھے الماری میں گزارنے ہوں گے
چوراہے میں دو طرح کی آوازیں ہیں
فہرست بنانے والوں کے قہقہے
اور فہرست پڑھنے والوں کا گریہ
احسان اصغر
No comments:
Post a Comment