Saturday, 15 January 2022

گمشدہ آواز کا ماتم

 گمشدہ آواز کا ماتم


الماری میں قید آواز

چوراہے تک پہنچنا چاہتی ہے

اور چوراہے سے اٹھنے والا گریہ

واپس پہاڑی بستیوں میں

دل اس درد کی موج تک

جو اٹھی اس کے باہر موجود سمندر سے

گزر بھی گئی اسے بھگونے سے انکار کرتی ہوئی

یوں تو کہانی میں

ایک بیلوں کی جوڑی اور ہل بھی تھے

چوراہے کا ذکر پھر بھی اضافی نہیں

کوہستانی بستیوں میں قبریں پتھر سے بھری جاتی ہیں

آدمی، بیلوں کی جوڑی اور ہل کے تکونی ربط میں 

کون کس جگہ زمین میں کتنا پیوست ہے

یہ فیصلہ محض دیکھنے والے پر نہیں چھوڑا جا سکتا

بارشیں کم ہوتی ہیں اور گریہ زیادہ

میری مٹی کا نم آنکھوں سے آتا ہے

یہاں کی فصل اٹھا لے جانے والا عیار

خوش ہوتا ہے کمسن آنکھوں اور ادھڑے جوان جسموں پر

بونے والے کھونے والوں کی فہرست میں

تلاش کرتے ہیں اپنے وجود کا حصہ

نہ کھیت رہے اور نہ خون کی سرخ بوندیں

ابھی بہت سے موسم مجھے الماری میں گزارنے ہوں گے

چوراہے میں دو طرح کی آوازیں ہیں

فہرست بنانے والوں کے قہقہے

اور فہرست پڑھنے والوں کا گریہ


احسان اصغر

No comments:

Post a Comment