نظریہ کیا ہے آخر زندگی کی کیا کہانی ہے
کہ میں جتنا سمجھ پائی یونہی سب رائیگانی ہے
مِری آنکھوں میں دیکھو گے تو پھر یہ جان پاؤ گے
یہ صدیوں کی محبت ہے وفا کی ترجمانی ہے
بہت سے جھوٹ بولے ہوں کہیں سچ بھی تو شامل ہے
سو کر دینا معاف اتنی شناسائی پرانی ہے
کہیں جذبوں کی شدت سے محبت اگنے لگتی ہے
مگر نفرت کے دھارے میں مسلسل کھارا پانی ہے
دعا کرنا کہ گھر آنگن کے سب رشتے سلامت ہوں
کہ اب باد مخالف نے کسی طوفاں کی ٹھانی ہے
جہاں بابا نہ اماں ہیں وہاں اک بار مل بیٹھیں
جہاں بچپن گزار آئے جہاں اپنی جوانی ہے
ڈراتا ہے ہرے موسم میں سب پتوں کا جھڑ جانا
شجر کی بے لباسی تو بچھڑنے کی نشانی ہے
آئرین فرحت
No comments:
Post a Comment