Saturday, 15 January 2022

خالی ہاتھ سوالی چہرے

 خالی ہاتھ سوالی چہرے


ہم بھی ہیں اس شہر کے باسی

جس نے لاکھوں ہاتھوں میں کشکول دیا ہے

کل تک تھا یہ اپناعالم

راہ میں وا ہاتھوں میں جب تک

اک اک چونّی رکھ نہیں دیتے دل کو چین نہیں آتا تھا

گھر والی بھی اک دو خالی پیٹ میں دانے پہنچا کر ہی 

خود کھانے میں سُکھ پاتی تھی

آج یہ منزل آ پہنچی ہے

کل سے زیادہ خالی ہاتھ سوالی چہرے

دل میں درد جگاتے ہیں

درد کے مارے جیب میں جاتا ہاتھ مگر رُک جاتا ہے

ہاتھ چلا بھی جائے اندر تو چونّی چھپ جاتی ہے

گھر والی کو پکی ہوئی ہانڈی پہ کبھی تو جبر سا کرنا پڑتا ہے

کبھی تو ڈھکن چُھوتے ہی کچھ ایسی وہ ڈر جاتی ہے

جیسے ہانڈی میں کالے اور 

اندھے مستقبل کی ناگن چُھپ کر بیٹھی ہو


ادیب سہیل

No comments:

Post a Comment