زندگی کے ساز پر جلتے ہوئے نغمات ہیں
رقص فرما شعلۂ دل کی طرح ذرات ہیں
ہیں بگُولوں کی طرح تارِ نفس بہکے ہوئے
زندگانی کی جنوں پرور سبھی آیات ہیں
ہم کہ تھے دلداریٔ موجِ حوادث پر نثار
شورِ طُوفاں سے عیادت دلنشیں جذبات ہیں
جن کو رکھتی تھی معطر تیری یادوں کی شمیم
تیغ کی جھنکار میں گُم وہ حسیں دن رات ہیں
وقت کی محراب میں اک شمع نو روشن کریں
راز دان آرزو ہم وارثِ آفات ہیں
کون ڈھونڈے گرمیٔ رُخسار خُوباں اے سروش
آتش پیکار سے شعلہ فگن جذبات ہیں
متین سروش
مرزا متین بیگ
No comments:
Post a Comment