Friday, 16 December 2016

ایسا نہ ہو کہ ہجر کے سالوں سے جا ملیں

ایسا نہ ہو کہ ہجر کے سالوں سے جا ملیں
لمحاتِ وصل خوابوں خیالوں سے جا ملیں
اے تیرگئ شب کے مسافر! قدم نہ روک
ممکن ہے آگے چل کے اجالوں سے جا ملیں
اے کاسۂ گدائی! انا کا سوال کیا؟
آ جا ضرورتوں کے پیالوں سے جا ملیں
یا رب، تغیرات کا یہ کھیل کب تلک 
ایسے عروج بھی نہ زوالوں سے جا ملیں
جو راز میرے پاس ہیں کیا کھول دوں انہیں
میں چاہتا ہوں چابیاں تالوں سے جا ملیں
آؤ دیے جلا کے علوم و فنون کے
ہم لوگ روشنی کی مثالوں سے جا ملیں

انور جمال انور

No comments:

Post a Comment