ایسا نہ ہو کہ ہجر کے سالوں سے جا ملیں
لمحاتِ وصل خوابوں خیالوں سے جا ملیں
اے تیرگئ شب کے مسافر! قدم نہ روک
ممکن ہے آگے چل کے اجالوں سے جا ملیں
اے کاسۂ گدائی! انا کا سوال کیا؟
یا رب، تغیرات کا یہ کھیل کب تلک
ایسے عروج بھی نہ زوالوں سے جا ملیں
جو راز میرے پاس ہیں کیا کھول دوں انہیں
میں چاہتا ہوں چابیاں تالوں سے جا ملیں
آؤ دیے جلا کے علوم و فنون کے
ہم لوگ روشنی کی مثالوں سے جا ملیں
انور جمال انور
No comments:
Post a Comment