Friday, 16 December 2016

نظر سے آپ کا نقش قدم جہاں گزرے

نظر سے آپ کا نقشِ قدم جہاں گزرے
وہ بد نصیب ہے سجدہ جسے گراں گزرے
وہ اہلِ عشق، نہ اہلِ یقیں، نہ اہلِ ادب
ترے حضور جنہیں غیر کا گماں گزرے
حضورِ پیرِ مُغاں حاصلِ زمان و مکاں
جو دن یہاں نہ گزارے وہ رائیگاں گزرے
کھنچے کھنچے سے رہے جن سے تم وہ دیوانے
اگر جناں میں بھی گزرے کشاں کشاں گزرے
گلوں سے پوچھ کہ تھے کس قدر بہار افروز
وہ چند روز جو کانٹوں کے درمیاں گزرے
جبینِ دَیر و حرم پر ہیں کچھ نشانِ قدم
یہ دیکھتا ہوں وہ ہوکر کہاں کہاں گزرے
ذہین راہِ جنوں وہ مقام ہے جس سے
ہزار حُسن و محبت کے کارواں گزرے

ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی

No comments:

Post a Comment