Friday, 16 December 2016

یہ شرک ہے تصور حسن و جمال میں

یہ شرک ہے تصورِ حسن و جمال میں
ہم کیوں ہیں تم اگر ہو ہمارے خیال میں
جب سے مِرا خیال تِری جلوہ گاہ ہے
آتا نہیں ہوں آپ بھی اپنے خیال میں 
اٹھّا تِرا حجاب نہ میرے اٹھے بغیر
میں آپ کھو گیا تِرے ذوقِ وصال میں
بیدارئ حیات تھی ایک خوابِ بیخودی
نیند آ گئی مجھے تِری بزمِ جمال میں
اب ہر ادائے عشق میں اندازِ حسن ہے
اب میں ہی میں ہوں آپ کی بزمِ جمال میں
چھاۓ ہوئے ہیں حسن کے جلوے جہان پر
تم ہو خیال میں، کہ نہیں کچھ خیال میں
ہاں اے خدائے حسن! دعائے جنوں قبول
میں تجھ سے مانگتا ہوں تجھی کو سوال میں
حد ہو گئی فریبِ تصور کی اے ذہینؔ 
میں خود کو پیش کرتا ہوں اس کی مثال میں

ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی

No comments:

Post a Comment