بہارِ باغِ گلستانِ سرمدی ہم ہیں
خدا کے ساتھ ہیں دائم وہ آدمی ہم ہیں
وہ بیخودی کہ حقیقت میں ہیخودی ہم ہیں
نیازِ بندگی و نازِ خواجگی ہم ہیں
جس انجمن میں دلوں کے چراغ جلتے ہیں
خجل ہے نورِ محبت سے ظلمتِ نفرت
جو شمع تند ہوا سے نہ بجھ سکی ہم ہیں
مثالِ برقِ تمنا،۔۔۔ برنگِ آتشِ شوق
یہ آگ جو ہے دلوں میں لگی ہوئی ہم ہیں
ہے ایک آنکھ میں سورج تو ایک آنکھ میں چاند
تغیراتِ شب و روز سے بری ہم ہیں
یہ واقعہ ہے کہ سب کچھ ہے تُو ہی تُو اے دوست
یہ اور بات کہ جو کچھ ہے تُو وہی ہم ہیں
بہت بڑے ہیں حقیقت میں ہم ذہینؔ، مگر
رہِ مجاز میں سب سے بڑی کمی ہم ہیں
ذہین شاہ تاجی
محمد طاسین فاروقی
No comments:
Post a Comment