چھیڑنا تھا سر بازار تمہارے دل کو
تم نے پر، کر دیا ہشیار تمہارے دل کو
اس میں میں ہوں کہ کوئی اور ہے منظورِ نظر
دیکھنا ہے پسِ دیدار تمہارے دل کو
گھر کے لوگوں کی ملامت پہ نہ جانا تم بھی
جان پر کھیلنا ہم کو بھی کہاں آتا تھا
دیکھ لو کر دیا تیار تمہارے دل کو
جانے اب ذہن میں آتا ہے ہمارے کیا کیا
جانے کیا ہو گیا ہے یار تمہارے دل کو
انور جمال انور
No comments:
Post a Comment