کہاں یہ چار دن کی زندگی آسان لگتی ہے
ہمارے دور میں تو خودکشی آسان لگتی ھہے
وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی لے ڈبوتے ہیں
کچھ ایسے لوگ جن کو رہبری آسان لگتی ہے
فلک سے اس زمیں تک سینکڑوں دشواریاں ہیں اور
ہماری طرح بحرِ فکر میں وہ غرق ہوں پہلے
جنہیں اوپر سے علم و آگہی آسان لگتی ہے
ہلاکت خيزئ رسمِ تنفر کیا ہے، کیا جانو
چلو مانا کہ تم کو دشمنی آسان لگتی ہے
اسے بتلاؤ کربِ فکرِ نسلِ نوعِ انسانی
جسے بھی زندگی ماں باپ کی آسان لگتی ہے
ہماری اہمیت سمجھو گے جب خود لکھنے بیٹھو گے
بظاہر تو یہ شعر و شاعری آسان لگتی ہے
انور جمال انور
No comments:
Post a Comment