Monday, 19 December 2016

کہاں یہ چار دن کی زندگی آسان لگتی ہے

کہاں یہ چار دن کی زندگی آسان لگتی ہے
ہمارے دور میں تو خودکشی آسان لگتی ھہے
وہ اپنے ساتھ اپنی قوم کو بھی لے ڈبوتے ہیں
کچھ ایسے لوگ جن کو رہبری آسان لگتی ہے
فلک سے اس زمیں تک سینکڑوں دشواریاں ہیں اور
تمہیں سورج سے آتی روشنی آسان لگتی ہے
ہماری طرح بحرِ فکر میں وہ غرق ہوں پہلے
جنہیں اوپر سے علم و آگہی آسان لگتی ہے
ہلاکت خيزئ رسمِ تنفر کیا ہے، کیا جانو
چلو مانا کہ تم کو دشمنی آسان لگتی ہے
اسے بتلاؤ کربِ فکرِ نسلِ نوعِ انسانی
جسے بھی زندگی ماں باپ کی آسان لگتی ہے
ہماری اہمیت سمجھو گے جب خود لکھنے بیٹھو گے
بظاہر تو یہ شعر و شاعری آسان لگتی ہے

انور جمال انور

No comments:

Post a Comment