آج جذبوں کے دریچے میں ہے وہ میرے ساتھ
اپنے سنگھار کے شیشے میں ہے وہ میرے ساتھ
اس کے ماتا پتا باہر کسی تقریب میں ہیں
اور اندر کسی کمرے میں ہے وہ میرے ساتھ
اس کی آنکھوں میں نشہ، ہونٹوں پہ صحرا کی پیاس
میں نے اس کے لیے ہر شے سے بغاوت کی تھی
بس اسی شے کے نتیجے میں ہے وہ میرے ساتھ
انور جمال انور
No comments:
Post a Comment