ہم جو دیوار پہ تصویر بنانے لگ جائیں
تتلیاں آ کے تِرے رنگ چرانے لگ جائیں
پھر نہ ہو مخملی تکیے کی ضرورت مجھ کو
تیرے بازو جو کبھی میرے سرہانے لگ جائیں
چاند تاروں میں بھی تب نور اضافی ہو جائے
چھت پہ جب ذکر تِرا یار سنانے لگ جائیں
چند سکوں پہ تم اترائے ہوئے پھرتے ہو
ہاتھ مفلس کے کہیں جیسے خزانے لگ جائیں
کیوں نہ پھر شاخ شجر پھول سبھی مرجھائیں
بھائی جب صحن میں دیوار اٹھانے لگ جائیں
اس نے دو لفظ میں جو باتیں کہیں تھی مجھ سے
اس کو میں سوچنے بیٹھوں تو زمانے لگ جائیں
پھر زمانے میں نہ ہو کوئی پریشاں نادم
تیرے جیسے بھی نکمے جو کمانے لگ جائیں
نادم ندیم
No comments:
Post a Comment