چلتی ریل سے کود گئے اور دوڑ پڑے پھِر جنگل کو
نقشہ گھر پہ بھول آئے تھے ہم آبائی غاروں کا
قطرہ قطرہ چوس رہا ہے وقت ہمارا سورج، اور
رفتہ رفتہ بیت رہا ہے جیون ہم بنجاروں کا
گھنگرو رکھے سرہانے پر، دھول اڑائی خوابوں میں
رقص کِیا نیندوں میں ہم نے، غم بانٹا درباروں کا
ایک ستارہ شام ڈھلے نکلے گا کچی بستی سے
اور ادھورا محور پورا ہو گا ہم سیاروں کا
طٰہٰ ابراہیم
No comments:
Post a Comment