Thursday, 10 June 2021

چھو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہو گی

 چھُو سکوں تجھ کو یہ اوقات کبھی تو ہو گی 

اور میسر بھی تِری ذات کبھی تو ہو گی 

چاند کے ساتھ میں جو چھت پہ کبھی گزرے گی 

ساتھ تم اور وہ حسیں رات کبھی تو ہو گی 

ایک مدت سے یہی آس لیے بیٹھا ہوں 

تجھ میں بھی شدتِ جذبات کبھی تو ہو گی 

ہجر جاناں میں بھی آنسو نہیں آئے میرے 

خشک صحراؤں میں برسات کبھی تو ہو گی 

جگنوؤں کا تو کوئی کام اجالوں میں نہیں 

ان سے روشن شب‌ِ ظلمات کبھی تو ہو گی 

اس لیے ختم کہانی نہیں ہونے دیتا 

اس کے قصے میں مِری بات کبھی تو ہو گی


نادم ندیم

No comments:

Post a Comment