Thursday, 10 June 2021

موجوں کی سازشوں نے کنارہ نہیں دیا

 موجوں کی سازشوں نے کنارہ نہیں دیا

تنکے نے ڈوبتے کو سہارا نہیں دیا

اس نے بھی میرا حال نہ پوچھا کسی بھی وقت

میں نے بھی اس کو کوئی اشارہ نہیں دیا

اس رات کو سیاہ بتانے میں کیا گریز

پلکوں پہ جس نے کوئی ستارہ نہیں دیا

تاریخ لکھ رہی تھی نئے سر کی داستان

لیکن سناں نے نام ہمارا نہیں دیا

مدت سے ایسے خواب میں الجھے ہوئے ہیں لوگ

جس نے حقیقتوں میں نظارہ نہیں دیا


وفا نقوی

No comments:

Post a Comment