Friday, 11 June 2021

غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیا

 غور سے مجھ کو دیکھتا ہے کیا

میرے چہرے پہ کچھ لکھا ہے کیا

میری آنکھوں میں جھانکتا ہے کیا

تجھ کو ان میں ہی ڈوبنا ہے کیا

میرے ہونٹوں کو چھو لیا اس نے

کیا بتاؤں مجھے ہُوا ہے کیا

اے کبوتر🕊 ذرا بتا مجھ کو

ان کی چھت پر بھی بیٹھتا ہے کیا

فاصلے عشق میں ہی ہوتے ہیں

تجھ کو یہ بھی نہیں پتا ہے کیا

میری دنیا میں بس تُو ہی تُو ہے

اب بتا تیرا فیصلہ ہے کیا

پیار سے مانگ لی ہے جان اس نے

میرے حصے میں اب بچا ہے کیا

چل کہیں دور چلتے ہیں نادم

گھر کو جانے میں بھی رکھا ہے کیا


نادم ندیم

No comments:

Post a Comment