عارفانہ کلام نعتیہ کلام
اتنا کرم تو یا شہ ابرار آپﷺ کا رہے
میری جبین شوق ہو دربار آپ کا رہے
اس سے زیادہ قیمتی دونوں جہاں میں کچھ نہیں
دامن ہمارے ہاتھ میں سرکار آپ کا رہے
مانا گنہ گار ہیں جنت میں پھر بھی جائیں گے
دوزخ میں کون جائے جب انکار آپ کا رہے
بھٹکے ہووں کو آپ نے دِکھلا دی راہِ مستقیم
احسان مند کیوں نہ پھر سنسار آپ کا رہے
دل چاہے درد آپ کا، لب چاہیں ذکر آپ کا
آنکھیں یہ چاہتی ہیں کہ دیدار آپ کا رہے
یوسف کے بعد میں بکے مجھ سا سیاہ بخت بھی
روزِ حساب تک کھُلا بازار آپ کا رہے
دیکھو بُلاوہ آئے گا طیبہ سے آج کل میں ہی
زادِ سفر اسد میاں! تیار آپ کا رہے
اسد اجمیری
No comments:
Post a Comment