Friday, 11 June 2021

گھر کبھی تھا وہ ہمارا بھی جدھر کے ہم ہیں

 گھر کبھی تھا وہ ہمارا بھی جدھر کے ہم ہیں

کیا بتائیں تمہیں کس چاند نگر کے ہم ہیں

حدِ فاصل نہیں کھنچتی ہے دلوں کے مابین

جس میں یادیں ہیں ہماری اسی گھر کے ہم ہیں

ماں کی آغوش کی مانند ہوں شاخیں جس کی

وہ کسی دیس کا ہو ایسے شجر کے ہم ہیں

پیار سے بڑھ کے بھلا اور کوئی کیا دے گا

یہ جہاں سے بھی ملے بس اسی در کے ہم ہیں

اک طبیعت کہ نہیں ملتی زمانے بھر سے

جانے کس دیس کے ہیں کون ڈگر کے ہم ہیں

ڈال دے پاؤں میں زنجیر ہی اب تو مولا

اور ہجرت کا نہ دم ہے نہ سفر کے ہم ہیں


تاشی ظہیر

No comments:

Post a Comment