Friday, 11 June 2021

اپنوں ہی پہ ہوتی ہے ہر مشق جفا پہلے

اپنوں ہی پہ ہوتی ہے ہر مشقِ جفا پہلے

کی چاک بہاروں نے پُھولوں کی قبا پہلے

اس کے لیے اُٹھے تھے گو دستِ دُعا پہلے

بیمار کی قسمت سے آ پہنچی قضا پہلے

اب ان کی جفاؤں کا کیوں دہر سے شکوہ ہے

ڈالی تھی ہمِیں نے تو بنیادِ وفا پہلے

محسوس یہ ہوتا ہے جیسے کبھی دیکھا ہو

اے دوست! مگر تجھ کو دیکھا تو نہ تھا پہلے

بیمارِ محبت کے انداز بتاتے ہیں

تدبیر و دوا آخر، تقدیر و دُعا پہلے

کیا فکر ہے دِیوانے! مل جائیں گے پھر وہ بھی

تُو چاک گریباں کو دامن سے مِلا پہلے

شوق اس کے تجسس میں یہ حال بھی گُزرا ہے

پُوچھا ہے زمانے سے اپنا ہی پتا پہلے


شوق اثر رامپوری

No comments:

Post a Comment