Friday, 11 June 2021

محبت بک گئی ہے درہم و دینار کے آگے

 محبت بک گئی ہے درہم و دینار کے آگے

کہ یہ اک جنسِ ارزاں تھی مِرے زردار کے آگے

تجسس کی نظر سے دیکھتا ہے وقت بھی مجھ کو

میں کھلتی ہی نہیں اس صاحبِ اسرار کے آگے

فروزاں ہے ہر اک لذت سے لطفِ وصل کی ساعت

کہ ساقی خود سبُو لائے شب بیدار کے آگے

وہ انساں ہی تھے اپنی جان کی بازی لگاتے تھے

مزاحم کتنے ہیں اب وقت کی یلغار کے آگے

خموشی ٹوٹ جائے گی مظالم کے سمندر میں

یہ خلقت ڈٹ گئی اک دن اگر سرکار کے آگے

تری یہ خوش گلوئی ہے کہ جانِ گلستان عنبر

کوئی بولی نہیں چلتی تِری چہکار کے آگے


نادیہ عنبر لودھی

No comments:

Post a Comment