Sunday, 13 June 2021

تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے

 تمہارے جانے کا ہم کو ملال تھوڑی ہے

اداسیوں میں تمہارا خیال تھوڑی ہے

مناؤں کس طرح ہولی میں دوستوں کے ساتھ

ہیں سب کے ہاتھ میں خنجر گلال تھوڑی ہے

مجھے یہ غم ہے وہ اب ساتھ ہے رقیبوں کے

یہ آنکھ اس کے بچھڑنے سے لال تھوڑی ہے

سوال یہ ہے ہوا آئی کس اشارے پر

چراغ کس کے بجھے یہ سوال تھوڑی ہے

کرم ہے اس کا اگر وہ نوازتا ہے ہمیں

ہمارے سجدوں کا اس میں کمال تھوڑی ہے


نادم ندیم

No comments:

Post a Comment