Friday, 10 December 2021

روئے حضرت سے اگر نور نہ پایا ہوتا

عارفانہ کلام نعتیہ کلام


رُوئے حضرتؐ سے اگر نور نہ پایا ہوتا

دونوں عالم میں اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا

یوسفؑ مصر میں سب کچھ سہی لیکن اک بار

اے زلیخا مِرے یوسف کو بھی دیکھا ہوتا

خیر سے امتِ عاصی کی شفاعت کر لی

ورنہ کیا جانیے کیا حشر ہمارا ہوتا

عرش پہ خالقِ افلاک کے مہمان ہوئے

کیوں نہ دنیا سے بلند آپؐ کا پایا ہوتا

شاهِ لولاکﷺ کے دم سے ہے نمودِ ہستی

وہﷺ اگر خلق نہ ہوتے تو یہاں کیا ہوتا

طور پہ جا کر پریشان ہوئے مفت کلیمؑ

اس سے یثرب میں چلے آتے تو اچھا ہوتا

مدح خوانِ شہِ لولاکﷺ بنایا حق نے

اور کیا اس زیادہ مِرا رُتبہ ہوتا

ثانئ احمدﷺ مختار کا امکان نہیں

ایسا ہوتا تو ضرور آپؐ کا سایہ ہوتا

افسر اللہ نے بخشی تھی اگر طبعِ سلیم

عمر کو نعت محمدﷺ میں گزارا ہوتا


افسر صدیقی

No comments:

Post a Comment