عارفانہ کلام منقبت سلام مرثیہ
استغاثہ ہے سر دار کوئی ہو تو چلے
ایک پیاسے پہ ہے یلغار کوئی ہو تو چلے
جو ہو اس فوج مخالف کا سپاہی نہ چلے
ہاں مگر حُر سا طرفدار کوئی ہو تو چلے
قافلہ سو گيا مقتل میں سرِ شام سبھی
رہ گیا قافلہ سالار کوئی ہو تو چلے
ایک بیٹا ہے جو گہوارہ سے اترا نہ کبھی
دوسرا بیٹا ہے بیمار کوئی ہو تو چلے
خود کو جھولے سے گرا دیتے ہیں جانے والے
کون ایسا ہے وفادار کوئی ہو تو چلے
رہ گیا نیزوں کے جنگل میں مسافر تنہا
یہ شہادت کے ہیں آثار کوئی ہو تو چلے
لمحہ لمحہ یہ صدا دیتی ہے عاشور کی شام
بیڑیاں ہوتی ہیں تیار کوئی ہو تو چلے
اللہ، اللہ، یہ لہو پہنے ہوئے تنہائی
لٹ گئی کس کی یہ سرکار کوئی ہو تو چلے
یہ ہیں ناموس نبیؐ خیمے سے کیسے نکلیں
کیا کرے صاحب کردار کوئی ہو تو چلے
جانے یہ کون پسِ خیمہ ہے گریاں گریاں
ہے کوئی اس کا عزادار کوئی ہو تو چلے
اس طرح سے درِ زنداں پہ سکینہ روئی
ساتھ روئے در و دیوار کوئی ہو تو چلے
کس کے لہجے میں علیؑ بول رہے ہیں لوگوں
کون بولا سرِ دربار کوئی ہو تو چلے
بیڑیاں جس کی مصیبت پہ لہو روتی ہیں
کون آیا سرِ بازار کوئی ہو تو چلے
یہ صدا آج بھی مقتل سے ہلال آتی ہے
کون حق کا ہے؟ کوئی ہو تو چلے
ہلال نقوی
No comments:
Post a Comment