عارفانہ کلام حمدیہ کلام
مجھ کو پیشانی تو دہلیز تلک لانے دے
مجھ کو الفت کے سمندر میں اتر جانے دے
مجھ کو معلوم ہے مولا میں خطا کار ہوں پر
مجھ کو سجدوں میں تڑپنے کا مزا پانے دے
یاد آتی ہیں جبیں سائی کی گھڑیاں مولا
اپنی چوکھٹ سے ذرا مجھ کو لپٹ جانے دے
میری چاہت ہے کہ کرسی سے اتر جاؤں مولا
بندگی راز ہے اور ناز میں ہی بتلانے دے
تِرا بندہ،۔ تِرا طالب،۔ تِرا بیمار تقی
اب دعا گو ہے کہ دربار تلک آنے دے
بندگی عشق بھی ہے سوز بھی ہے ناز بھی ہے
راز کی بات ہے چپکے سے ہی پہنچانے دے
طالب قرب ہوں لیکن مِری کرسی ہے حجاب
خاک کے راستے اب عرش تلک جانے دے
مفتی تقی عثمانی
No comments:
Post a Comment