Friday, 17 December 2021

مجھ کو پیشانی تو دہلیز تلک لانے دے

عارفانہ کلام حمدیہ کلام


 مجھ کو پیشانی تو دہلیز تلک لانے دے

مجھ کو الفت کے سمندر میں اتر جانے دے

مجھ کو معلوم ہے مولا میں خطا کار ہوں پر

مجھ کو سجدوں میں تڑپنے کا مزا پانے دے

یاد آتی ہیں جبیں سائی کی گھڑیاں مولا

اپنی چوکھٹ سے ذرا مجھ کو لپٹ جانے دے

میری چاہت ہے کہ کرسی سے اتر جاؤں مولا

بندگی راز ہے اور ناز میں ہی بتلانے دے

تِرا بندہ،۔ تِرا طالب،۔ تِرا بیمار تقی

اب دعا گو ہے کہ دربار تلک آنے دے

بندگی عشق بھی ہے سوز بھی ہے ناز بھی ہے

راز کی بات ہے چپکے سے ہی پہنچانے دے

طالب قرب ہوں لیکن مِری کرسی ہے حجاب

خاک کے راستے اب عرش تلک جانے دے


مفتی تقی عثمانی

No comments:

Post a Comment