Thursday, 16 December 2021

محبت کی ایک اور کوشش

 محبت کی ایک اور کوشش


چلو پچھتاوے کی کالی جھیل میں

تم اور میں اپنی آنکھوں کے بدلے ہوئے رنگ پھینکیں

اپنی ہاتھوں کی بے وفا لکیریں ڈبوئیں

اپنی اکڑی ہوئی مغرور انگلیاں

اجنبی پاؤں

بھگو کر بیٹھیں

خود کو کھو کر بیٹھیں

ماضی کی باہوں میں رات

رات گزاریں

ہو سکتا ہے موذی مرض میں مبتلا ہماری محبت

زندگی کے بے رنگ تکیے پر

ایک اور سانس رکھ جائے

مایوسی کا الارم

خودبخود رک جائے

بیزاری تھک جائے

میرے وہمی دل کو

یقین ہے

صبح کے آخری کنارے پر

اُمید کی کشتی اُترے گی

تم اُس کشتی میں کہیں چُھپا ہوا

پیار کا رنگ ڈھونڈ لینا

جو پرانے گھر کی

اکلوتی نئی دیوار پر

تم سجانا چاہتے تھے

اور وہ پینٹنگ بنانا

جو میری بائیسویں سالگرہ کی پہلی شام

بنانا چاہتے تھے

وہی تصویر تمہارا پورا عشق ہوکر بھی

اِس آدھی محبت میں

ادھوری رہ گئی ہے

میں بھی کچھ رنگ

مٹھی میں بھر لوں گی

تمھاری عنایت کی منتظر

ایک لاوارث نظم کی

پھر سے

مانگ بھر دوں گی


حمیرا فضا

No comments:

Post a Comment