Wednesday, 5 July 2023

تیری خوشبو میری چادر ورفعنا لک ذکرک

 عارفانہ کلام حمد نعت مقبت

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک 


تیری خوشبو، میری چادر

تیرے تیور، میرا زیور

تیرا شیوہ، میرا مسلک 

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک

میری منزل، تیری آہٹ 


میرا سِدرہ، تیری چوکھٹ 

تیری گاگر، میرا ساگر

تیرا صحرا، میرا پنگھٹ 

میں ازل سے تِرا پیاسا

نہ ہو خالی میرا کاسہ 

تیرے واری تِرا بالک 

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک


تیری مِدحت، میری بولی

تُو خزانہ، میں ہوں جھولی

تیرا سایہ، میری کایا

تیرا جھونکا، میری ڈولی

تیرا رستہ، میرا ہادی

تیری یادیں، میری وادی

تیرے ذرّے، میرے دِیپک

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک


تیرے دم سے دلِ بِینا

کبھی فاراں، کبھی سِینا

نہ ہو کیوں پھر تیری خاطر

میرا مرنا، میرا جینا

یہ زمیں بھی ہو فلک سی

نظر آئے جو دھنک سی

تیرے در سے میری جاں تک

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک


میں ہوں قطرہ، تُو سمندر

میری دنیا تیرے اندر

سگِ داتا، میرا ناتا

نہ ولی ہوں، نہ قلندر

تیرے سائے میں کھڑے ہیں

میرے جیسے تو بڑے ہیں

کوئی تجھ سا نہیں بے شک

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک


میں ادھورا، تُو مکمل 

میں شکستہ، تُو مسلسل

میں سخنور، تُو پیمبر

میرا مکتب، تِرا ایک پل 

تیری جُنبش، میرا خامہ 

تیرا نقطہ، میرا نامہ

کِیا تُو نے مجھے زیرک

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک


میری سوچیں ہیں سوالی

میرا لہجہ ہو بلالیؓ

شبِ تِیرہ، کرے خِیرہ

میرے دن بھی ہوں مثالی

تیرا مظہر ہو میرا فن

رہے اُجلا میرا دامن

نہ ہو مجھ میں کوئی کالک

وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَک


مظفر وارثی 

No comments:

Post a Comment