Saturday, 5 November 2016

آمد گل سے جنوں کی ایک آسانی جو تھی

آمدِ گل سے جنوں کی ایک آسانی جو تھی
تازہ کر دی میں نے رسمِ چاک دامانی جو تھی
آپ اپنی محویت میں کیا کمالِ حسن تھی
خال و خط میں اسکے اک خوابوں کی حیرانی جو تھی
بُوےۓ گل میں پردۂ خلوت سا کوئی رمز تھا
رنگِ مے سے ہے، لبوں کی اک سخن دانی جو تھی
نقشِ نو اپنی جگہ،۔۔ آئینہ گاہ اپنی جگہ 
دل کی ویرانی مگر ہے، دل کی ویرانی جو تھی
آخری نشتر تھا دل پر، اس کا مڑ کر دیکھنا 
رہ گئی ہے زخمِ دل میں اک گراں جانی جو تھی

عزیز حامد مدنی ​ 
(غیر مطبوعہ غزل)

No comments:

Post a Comment