Sunday, 16 August 2020

نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف

نہیں کسی کی توجہ خود آگہی کی طرف
کوئی کسی کی طرف ہے کوئی کسی کی طرف
تمہارا جلوۂ معصوم دیکھ لے اک بار
خیال جس کا نہ جاتا ہو بندگی کی طرف
مزاجِ شیخ و برہمن کی برہمی معلوم
کہ اب حیات کا رخ ہے خود آگہی کی طرف
نظر وہ لوگ اجالے میں خود نہ آئے کبھی
بلا رہے ہیں جو دنیا کو روشنی کی طرف
جتا رہے ہیں ہمِیں کو نہ دیکھنا اپنا
وہ دیکھ دیکھ کے محفل میں ہر کسی کی طرف
ہزار بار ارادہ کئے بغیر بھی ہم
چلے ہیں اٹھ کے تو اکثر گئے اسی کی طرف
بتوں 👩نے منہ نہ لگایا ادیب کو شاید
جھکے ہوئے ہیں جبھی تو یہ شیخ جی کی طرف

ادیب سہارنپوری

No comments:

Post a Comment