منزلیں نہ بھولیں گے راہ رو بھٹکنے سے
شوق کو تعلق ہی کب ہے پاؤں تھکنے سے
زندگی کے رشتے بھی دور دور تک نکلے
روح جاگ اٹھتی ہے پھول کے مہکنے سے
کتنے تیر کھائے ہیں کتنے غم اٹھائے ہیں
ایک ساغر🍷 لبریز، اور صورتِ سقراط
جاوداں نہیں ہوتے صرف زہر چکھنے سے
گرم ہو کے پچھتائے بادِ تند کے جھونکے
روشنی چراغوں کی بڑھ گئی بھڑکنے سے
اے ادیب! پر گوئی فرض تو نہیں کوئی
کیا بری ہے خاموشی اول فول بکنے سے
ادیب سہارنپوری
No comments:
Post a Comment