Sunday, 16 August 2020

تیرے نام کی تھی جو روشنی اسے خود ہی تو نے بجھا دیا

تیرے نام کی تھی جو روشنی اسے خود ہی تُو نے بجھا دیا
نہ جلا سکی جسے دھوپ، اسے چاندنی 🌕نے جلا دیا
میں ہوں گردشوں میں گھرا ہوا، مجھے آپ اپنی خبر نہیں
وہ جو شخص تھا میرا رہنما، اسے راستوں میں گنوا دیا
جسے تُو نے سمجھا رقیب تھا، وہی شخص تیرا نصیب تھا
تیرے ہاتھ کی وہ لکیر تھا، اسے ہاتھ سے ہی مٹا دیا
مجھے عشق ہے کہ جنوں ہے، ابھی فیصلہ ہی نہ ہو سکا
میرا نام زینتِ دشت تھا، مجھے آندھیوں نے مٹا دیا
یہ اداسیوں کا جمال ہے، کہ ہمارا اوجِ کمال ہے
کبھی ذات سے بھی چھپا لیا، کبھی شہر بھر کو بتا دیا
میری عمر کا ابھی گلستاں🎕 کھلا ہوا ضرور ہے
وہ پھول تھے تیری چاہ کے انہیں موسموں نے گرا دیا

ادیب سہارنپوری

No comments:

Post a Comment