Sunday, 16 August 2020

ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے

ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے
رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے
بے خطر جاگتے رہنا بھی کوئی جاگنا ہے
نیند آ جائے گی اس ڈر سے کوئی جاگتا ہے
آنکھ کا تارہ ☆ کہیں خواب کا سیارہ کہیں
صبح اس حال میں بستر سے کوئی جاگتا ہے
پھینکتا رہتا ہے مجھ پر ترے خوابوں کا لحاف
رات بھر میرے برابر سے کوئی جاگتا ہے
کیا تراشیں گے یہ حالات نئے ہیرو کو
پھول سے کوئی نہ پتھر سے کوئی جاگتا ہے

فیضان ہاشمی

No comments:

Post a Comment