ہر ستارے پہ کسی گھر سے کوئی جاگتا ہے
رات ہوتی ہے تو اندر سے کوئی جاگتا ہے
بے خطر جاگتے رہنا بھی کوئی جاگنا ہے
نیند آ جائے گی اس ڈر سے کوئی جاگتا ہے
آنکھ کا تارہ ☆ کہیں خواب کا سیارہ کہیں
پھینکتا رہتا ہے مجھ پر ترے خوابوں کا لحاف
رات بھر میرے برابر سے کوئی جاگتا ہے
کیا تراشیں گے یہ حالات نئے ہیرو کو
پھول سے کوئی نہ پتھر سے کوئی جاگتا ہے
فیضان ہاشمی
No comments:
Post a Comment