خرد سے ایسے الجھے ہیں کہ سلجھائے نہیں جاتے
جہاں میں ہم سے دیوانے کہیں پائے نہیں جاتے
ہمارا اور گلوں کا رنگِ وحشت ایک جیسا ہے
نکل جاتے ہیں یوں دامن کہ سلوائے نہیں جاتے
بغیر ان کے بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے
سکوں کی جستجو، آسودگی کی آرزوؤں نے
قدم ایسے نکالے ہیں کہ ٹھہرائے نہیں جاتے
تیری مخمور آنکھوں نے تیرے جلرنگ ہونٹوں پر
ہزاروں گیت ایسے بھی ہیں جو گائے نہیں جاتے
خوشی کی چھاؤں میں بیٹھے، غموں کی دھوپ بھی جھیلی
خیالوں سے تِری دیوار کے سائے نہیں جاتے
ہماری تشنگی کی شرم رکھ لے ساقئ محفل
بھری محفل میں ہم سے ہاتھ پھیلائے جاتے
چلو خود ہی ادیب اس بزم میں تم بھی کہ پروانے
حضورِ شمع خود جاتے ہیں بلوائے نہیں جاتے
ادیب سہارنپوری
No comments:
Post a Comment