Tuesday, 18 August 2020

خرد سے ایسے الجھے ہیں کہ سلجھائے نہیں جاتے

خرد سے ایسے الجھے ہیں کہ سلجھائے نہیں جاتے
جہاں میں ہم سے دیوانے کہیں پائے نہیں جاتے
ہمارا اور گلوں کا رنگِ وحشت ایک جیسا ہے
نکل جاتے ہیں یوں دامن کہ سلوائے نہیں جاتے
بغیر ان کے بسا اوقات یہ محسوس ہوتا ہے
کہ جیسے ہم دو عالم میں کہیں پائے نہیں جاتے
سکوں کی جستجو، آسودگی کی آرزوؤں نے
قدم ایسے نکالے ہیں کہ ٹھہرائے نہیں جاتے
تیری مخمور آنکھوں نے تیرے جلرنگ ہونٹوں پر
ہزاروں گیت ایسے بھی ہیں جو گائے نہیں جاتے
خوشی کی چھاؤں میں بیٹھے، غموں کی دھوپ بھی جھیلی
خیالوں سے تِری دیوار کے سائے نہیں جاتے
ہماری تشنگی کی شرم رکھ لے ساقئ محفل
بھری محفل میں ہم سے ہاتھ پھیلائے جاتے
چلو خود ہی ادیب  اس بزم میں تم بھی کہ پروانے
حضورِ شمع خود جاتے ہیں بلوائے نہیں جاتے

ادیب سہارنپوری

No comments:

Post a Comment