بے چارگیٔ چارہ گراں
دلوں کے حال
چہروں پر لکھے ہیں
وہ
نہ جانے کون ہیں کیوں ہیں
جو کہتے ہیں
ہمیں اندھی رتوں کے ساتھرہنا ہی مناسب ہے
بہت پیوند چادر میں لگے ہیں
ابھی رستہ نہیں ڈھونڈیں
ابھی تو پاؤں ننگے ہیں
ابھی تو رزق کے دانوں پہ
اپنا نام پڑھنا دیکھنا ہو گا
ابھی تو سیکھنا ہو گا
ابھی حرفِ دعا ہی
سب کو کافی ہے
ادا جعفری
دلوں کے حال
چہروں پر لکھے ہیں
وہ
نہ جانے کون ہیں کیوں ہیں
جو کہتے ہیں
ہمیں اندھی رتوں کے ساتھرہنا ہی مناسب ہے
بہت پیوند چادر میں لگے ہیں
ابھی رستہ نہیں ڈھونڈیں
ابھی تو پاؤں ننگے ہیں
ابھی تو رزق کے دانوں پہ
اپنا نام پڑھنا دیکھنا ہو گا
ابھی تو سیکھنا ہو گا
ابھی حرفِ دعا ہی
سب کو کافی ہے
ادا جعفری
No comments:
Post a Comment