Sunday, 6 November 2022

ہجر آثار تھا اک شہر تہہ دل نہ رہا

 ہجر آثار تھا اک شہر، تہہ دل نہ رہا

آ گئے تم تو کوئی چاہ کے قابل نہ رہا

وقت کی کونسی جہتوں میں تجھے ڈھونڈتی میں

کہکشاں دل نہ ہوئی، عشق درِ دل نہ رہا

مل کہ اب جا کے میسر ہوئی پوری خلوت

آ، کہ اب دشت بدن بیچ میں حائل نہ رہا

جام گردش میں اسی جرعہ بے نام سے تھے

چشم ساقی جو بجھی، نشہ محفل نہ رہا

خاک اڑانے کو کہاں جائے بدن کی مٹی

دل ہی جب جسم کے آزار میں شامل نہ رہا

اس کے دیکھے سے دمک اٹھی پرانی تصویر

عکس خود بول اٹھے، آئینہ گھائل نہ رہا

تیسرے عشق نے زندہ کیا آخر مجھ کو

وہ جو اک مرحلہ دار تھا، مشکل نہ رہا


صائمہ زیدی

No comments:

Post a Comment