Monday, 7 November 2022

یار بناں جو جی پر گزری کون لکھے اور کون سنائے

 یار بناں جو جی پر گزری کون لکھے اور کون سنائے

کاتب! تجھ کو اللہ رکھے، قاصد تجھ کو رام سہائے

مانا جاتے جاتے اس کے پَیر نہ پکڑے روک نہ پائے

مطلب اِس کا یہ تو نہیں تھا جانے والا بھاڑ میں جائے

جھونکا، موسم، کاگ، پپیہا، سَنت، نجومی، دست شناس

کس سے اس کی خبر نہ مانگی، کس کے نہیں ہیں ناز اٹھائے

رنگ، رساؤ، رونق، رامش اس کے ساتھ گئے اور اب

اوب کے گہرے پانی اندر کوئی کب تک جان گُھلائے

جس کس پاس نہ یار بِراجے، نہ دکھ سکھ کی بیٹھک ساجے

ٹھور ٹھام پڑیں بلوائی، پِیڑھی پلنگ کو دیمک کھائے

عمر کی پکی کھیتی کٹنے کو ہے لیکن پھر بھی کبھی

دل ہے وہ شیطان سا بالک کھڑی فصل میں آگ لگائے

غم کی میلی چادر والو، آنسو گھاٹ پہ کُٹیا ڈالو

شعر کی اک الگنیا تانو، جو دھوئے سو آپ سُکھائے


اسد فاطمی

No comments:

Post a Comment