ہجر کے جام سے سیراب رہا کرتے تھے
موسم غم میں نمو یاب رہا کرتے تھے
دید کی شرط نہ تھی عشق کے افسانے میں
ہم تجھے سوچ کے شاداب رہا کرتے تھے
تیری آنکھوں میں دمکتے تھے ستاروں کی طرح
خواب تھے اور پسِ خواب رہا کرتے تھے
مجھ سے کہتی ہے یہ سینے میں دھڑکتی ہوئی برف
یاں کبھی ابرُو گل و آب رہا کرتے تھے
دشت ہیں اب مِری آنکھیں تو کرم ہے تیرا
ورنہ پہلے یہاں سیلاب رہا کرتے تھے
پاس ناموس محبت میں جیے تھے کچھ لوگ
شہر میں ہم سے خوش آداب رہا کرتے تھے
جب میسر تھا ہمیں وہ تو شبوں میں اپنی
کئی سورج کئی مہتاب رہا کرتے تھے
تتلیاں تھیں تِری آنکھیں کہ جنہیں پھول سے لب
بڑھ کے چھُو لینے کو بے تاب رہا کرتے تھے
صائمہ علی زیدی
No comments:
Post a Comment